خراٹے لینا صرف آپ کے ساتھ سونے والوں کی نیند ہی خراب نہیں کرتا، بلکہ یہ آپ کی اپنی صحت کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسے محض گہری نیند کی علامت سمجھ کر نظر انداز کرنا درست نہیں۔
خراٹوں کی دو بڑی اقسام
عام خراٹے یہ سانس کی نالی میں معمولی رکاوٹ کی وجہ سے گلے میں پیدا ہونے والی وائبریشن (کمپن) سے آتے ہیں۔ یہ خطرناک نہیں ہوتے، بس دوسروں کو تنگ کرتے ہیں۔
خطرناک خراٹے (سلیپ ایپنیا) اگر خراٹوں کی آواز بہت اونچی ہو اور نیند کے دوران بار بار سانس رکتا محسوس ہو، تو یہ 'سلیپ ایپنیا' (Sleep Apnea) کی علامت ہے۔ اس سے جسم میں آکسیجن کی سطح گر جاتی ہے اور دل پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔
خراٹوں سے جڑے صحت کے سنگین مسائل
دل کی بیماریاں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دل کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، جس سے دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر اور فالج مناسب آکسیجن نہ ملنے سے جسم میں تناؤ پیدا ہوتا ہے، جو ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک اور فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
ذیابیطس (شوگر) کا خدشہ نیند خراب ہونے سے پیدا ہونے والے اسٹریس ہارمونز انسولین کے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، جس سے شوگر کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہڈیوں کی کمزوری نیند میں سانس رکنے سے جسم میں سوزش بڑھتی ہے، جو ہڈیوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ اس سے فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر خواتین میں۔
سنگین بیماریوں کا امکان بعض ماہرین کے مطابق، مسلسل آکسیجن کی کمی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے کینسر جیسی دیگر سنگین بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
قدرتی مساج آئل کا استعمال:
مہنگی سرجری یا منہ کھول کر رکھنے والے کسی عارضی کلپ کے بجائے، آپ پہلے کوئی قدرتی مساج آئل جیسا کہ 'سنوریکس' استعمال کریں۔ گلے اور ناک پر اس تیل کی مالش کرنے سے آپ کی سانس اور گلے کی نالیاں کھل جاتی ہیں۔ تاہم، اگر ایک مہینے کے استعمال کے بعد بھی آپ کی سانس رک رہی ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔